حدیث نمبر: 32620
٣٢٦٢٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت حميد بن (عبد اللَّه) (١) الأصم يذكر عن أم راشد جدته قالت: كنت عند أم هانئ فأتاها علي (فدعت) (٢) له بطعام، (قال) (٣): ونزلت فلقيت رجلين في الرحبة فسمعت أحدهما يقول لصاحبه: بايعته أيدينا ولم تبايعه قلوبنا، قالت: فقلت: من هذان الرجلان؟ قالوا: طلحة والزبير، (قلت) (٤): (فإني) (٥) سمعت أحدهما يقول لصاحبه: بايعته (أيدينا ولم تبايعه) (٦) قلوبنا، فقال علي: ﴿فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ (فَسَيُؤْتِيهِ) (٧) أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [الفتح: ١٠] (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام راشد سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں امّ ہانی رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ ان کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے ان کو کھانے کی دعوت دی اور فرمانے لگیں کہ میں میدان کی طرف اتری اور میں نے دو آدمی دیکھے تو میں نے ان میں سے ایک کو سنا کہ دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا کہ اس آدمی سے ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی، فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ دو آدمی کون ہیں ؟ لوگ کہنے لگے طلحہ اور زبیر، فرماتی ہیں کہ میں نے ان کو یہی کہتے ہوئے سنا کہ اس آدمی سے ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص نے عہد شکنی کی ا س کی عہد شکنی کا نقصان اسی کو ہوگا اور جس نے اس وعدے کو پورا کیا جس کو اس نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا تو عنقریب وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔

حواشی
(١) في النسخ: (عبد الرحمن)، وسيأتي ١٥/ ٧٣، و ١٢٥: (عبد اللَّه)، وهو كذلك في كتب التراجم، وسيأتي ١٥/ ٢٦٢ برقم [٤٠٥٨٠].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فدعى).
(٣) في [هـ]: (قالت).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط]: (قال)، وفي [هـ]: (قالت).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [جـ، م]: (فستؤتيه)، وفي [هـ]: (فسيؤتيه اللَّه).
(٨) مجهول؛ لجهالة أم راشد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32620
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32620، ترقيم محمد عوامة 31235)