مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٦٠٧ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: كان قيس بن عبادة (١) مع (علي) (٢) على مقدمته، ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رؤوسهم بعد ما مات علي، فلما دخل الحسن في بيعة معاوية أبى قيسٌ أن يدخل، فقال لأصحابه: ما شئتم، إن شئتم جالدت بكم أبدا حتى يموت الأعجل، وإن شئتم أخذت لكم أمانًا، فقالوا (له) (٣): خذ لنا أمانا، فأخذ لهم أن لهم كذا وكذا ولا يعاقبوا بشيء، و (أني) (٤) رجل منهم، ولم يأخذ لنفسه (خاصة) (٥) شيئًا، فلما (ارتحل) (٦) نحو المدينة ومضى بأصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (٧).حضرت عروہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے لشکر کے اگلے حصّے میں رہے تھے، اور ان کے ساتھ پانچ ہزار افراد تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپنے سروں کو منڈوا لیا تھا، پس جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت میں داخل ہوگئے تو قیس نے داخل ہونے سے انکار کردیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں لے کر ہمیشہ لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے مرنے والا مرجائے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے امان طلب کرلوں، وہ کہنے لگے آپ ہمارے لئے امان طلب کرلیں، چناچہ انہوں نے ان کے لئے کچھ شرائط اور معاوضے کے ساتھ صلح کرلی، اور شرط ٹھہرائی کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے ، اور یہ کہا کہ میں ان کا ایک فرد ہوں گا، اور اپنے لئے کوئی شرط نہیں لگائی، جب وہ مدینہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلے تو سارے راستے میں روزانہ ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔