حدیث نمبر: 32605
٣٢٦٠٥ - حدثنا ابن علية عن (١) عيينة عن أبيه قال: لقي (أبو بكرة) (٢) المغيرة بن شعبة (يومًا) (٣) نصف النهار وهو (متقنع) (٤)، فقال: أين تريد؟ (فقال) (٥): أريد حاجة، قال: إن الأمير يزار، ولا يزور (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عیینہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہایک دن نصف النھار کے وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ملے جبکہ انہوں نے سر پر کپڑا ڈال رکھا تھا، حضرت ابو بکرہ نے پوچھا کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے فرمایا میں ایک ضرورت سے جار ہا ہوں، آپ نے فرمایا کہ امیر کے پاس حاضر ہوا جاتا ہے خود امیر کسی کے پاس نہیں جاتا۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، ك، هـ]: زيادة (ابن)، وانظر: العلل لأحمد ٢/ ٤٠٧.
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (أبو بكر).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط]: (قوم)، وفي [ك]: (يوم)، وفي [هـ]: (بقوم).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (مقنع).
(٥) في [جـ، ك، م]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32605
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32605، ترقيم محمد عوامة 31220)