حدیث نمبر: 32603
٣٢٦٠٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن زياد قال: لما أراد عثمان أن يجلد الوليد قال لطلحة: قم فاجلده، قال: إني لم أكن من الجلادين، فقام إليه علي فجلده، فجعل الوليد يقول لعلي: (أنا) (١) صاحب مكينة، قال: ⦗١١٦⦘ قلت لزياد: وما صاحب مكينة؟ قال: امرأة كان يتحدث (إليها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

زیاد راوی ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کو کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت طلحہ سے فرمایا کہ کھڑے ہو کر ان کو کوڑے مارو، وہ کہنے لگے میں کوڑے مارنے والا نہیں ہوں ، چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کو کوڑے لگائے تو ولید کہنے لگا کہ میں مکینہ کا ساتھی ہوں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے زیاد سے پوچھا کہ مکینہ کے ساتھی کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مکینہ ایک عورت تھی جس سے وہ باتیں کیا کرتا تھا۔

حواشی
(١) في [م]: (أيا).
(٢) في [هـ]: (بها).
(٣) منقطع؛ زياد بن أبي زياد المخزومي المدني لم يدرك عثمان.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32603
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32603، ترقيم محمد عوامة 31218)