حدیث نمبر: 32602
٣٢٦٠٢ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: شهدت عبد اللَّه ابن مسعود جاء (يتقاضى) (١) سعدًا دراهم أسلفها إياه من بيت المال، فقال: رُدّ هذا المال، فقال سعد: أظنك لاقيًا شرًا، قال: رد هذا المال، قال: فقال سعد: هل أنت (٢) ابنَ مسعود (إلا) (٣) عبدٌ من هذيل، قال: فقال عبد اللَّه: هل أنت إلا ابن (حُمَيْنة) (٤)، قال: فقال ابن أخي سعد: (أجل) (٥)، إنكما (لصاحبا) (٦) رسول اللَّه ﷺ، ينظر الناس إليكما، فرفع سعد يديه يقول: اللهم رب السماوات والأرض، فقال ابن مسعود: ويحك، قل قولًا (و) (٧) لا تلعن، قال: (فقال) (٨) سعد: (أم) (٩) واللَّه أن لولا مخافة اللَّه لدعوت عليك دعوة لا تخطئك، قال: فانصرف عبد اللَّه كما هو (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ان دراہم کا تقاضا کر رہے ہیں جو انہوں نے ان کو بیت المال سے قرض دیے تھے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں برا ملاقاتی سمجھتا ہوں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ مال لوٹاؤ، انہوں نے فرمایا اے ابن مسعود ! کیا تم قبیلہ ہذیل کے ایک غلام نہیں ہو ؟ راوی فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم حُمَینہ کے بیٹے نہیں ہو ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نے فرمایا کہ بیشک تم دونوں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو لوگ تمہیں دیکھتے ہیں، چناچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھا لیے ” اے اللہ ! جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے “ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے جو چاہو کہو لیکن لعنت نہ کرنا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں تم پر ایسی بد دعا کرتا جو تم سے خطا نہ کھاتی، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے آئے تھے ایسے چل دیے۔

حواشی
(١) في [ط]: (نتقاضى).
(٢) في [هـ]: زيادة (إلا).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (حمنة)، وهي أم سعد.
(٥) في [ط، هـ]: (أجد).
(٦) في [أ]: (صاحبا).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ط]: (فقام).
(٩) في [ك، هـ]: (أما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32602
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32602، ترقيم محمد عوامة 31217)