حدیث نمبر: 32599
٣٢٥٩٩ - حدثنا جرير عن المغيرة عن عثمان بن يسار عن تميم بن (حذلم) (١) قال: إن أول يوم سلم على أمير بالكوفة بالإمرة (قال: خرج المغيرة بن شعبة من القصر فعرض له رجل من كنده، فسلم عليه بالإمرة) (٢) فقال: (ما) (٣) هذا؟ ما أنا إلا رجل منهم، فتركت زمانًا ثم أقرها بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت تمیم بن حزلم فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کوفہ کے کسی امیر کو امیر کہہ کر سلام کرنے کا قصہ یوں پیش آیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہاپنے محل سے نکلے تو ان کے پاس قبیلہ کندہ کا ایک آدمی آیا اس نے ان کو امیر کہہ کر سلام کیا، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں تو عام لوگوں کا ایک فرد ہوں، چناچہ اس لقب کو ایک عرصے تک چھوڑا گیا ، پھر بعد میں اس کو شامل کرلیا۔

حواشی
(١) في [ط]: (حزيم)، وفي [أ، ط، هـ]: (حذيم).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٣) في [ط]: (يا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32599
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عثمان بن يسار صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32599، ترقيم محمد عوامة 31214)