حدیث نمبر: 32598
٣٢٥٩٨ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن سماك بن سلمة عن عبد الرحمن بن (عصمة) (١) قال: كنت عند عائشة فأتاها رسول من معاوية بهدية فقال: أرسل بهذا أمير المؤمنين، فقبلت هديته، فلما خرج الرسول قلنا: (يا) (٢) أم المؤمنين، ألسنا مؤمنين وهو أميرنا؟ قالت: أنتم إن شاء اللَّه المؤمنون وهو أميركم (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن عصمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک قاصد ہدیہ لے کر آیا اور اس نے کہا کہ یہ چیز امیر المؤمنین نے بھیجی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو قبول فرما لیا، جب قاصد نکل گیا تو ہم نے عرض کیا ! اے اُمّ المؤمنین کیا ہم مؤمنین نہیں ہیں اور وہ ہمارے امیر ہیں ؟ ّآپ نے جواب دیا کہ تم ان شاء اللہ مؤمن ہو اور وہ تمہارے امیر ہیں۔

حواشی
(١) في [ن]: (عطية)؛ وانظر: ما تقدم ١/ ٢٩١ برقم [٣٢٣٩١].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عصمة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32598
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32598، ترقيم محمد عوامة 31213)