مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأمراء
ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٥٩٥ - حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة قال: أخبرني سالم عن أبيه أن عمر لما نزع شرحبيل بن حسنة قال: (يا) (١) عمر عن سخطة (نزعتني) (٢)، قال: لا، ولكنا رأينا من هو أقوى منك فتحرجنا من اللَّه أن (نتركك) (٣)، وقد رأينا من هو أقوى منك، فقال له شرحبيل: فأعذرني، فقام عمر على المنبر فقال: (إنا) (٤) كنا ⦗١١٣⦘ استعملنا شرحبيل (بن) (٥) حسنة، ثم (نزعناه) (٦) (من) (٧) غير سخطة وجدتها عليه، ولكنا رأينا من هو أقوى منه، (فتحرجنا) (٨) من اللَّه أن نقره وقد رأينا من هو أقوى منه، فنظر عمر من العشي إلى الناس وهم يلوذون (بالعامل) (٩) الذي استعمل، (و) (١٠) شرحبيل (محتبٍ) (١١) وحده، فقال عمر: (أما) (١٢) الدنيا فإنها لكاع (١٣).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو معزول کردیا تو انہوں نے عرض کیا اے عمر رضی اللہ عنہ ! کیا آپ نے مجھے کسی ناراضی کے سبب معزول کردیا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن ہم نے آپ سے زیادہ قوت والا ایک آدمی دیکھا ہے، حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر مجھے معذور رکھو، چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ہم نے شرحبیل بن حسنہ کو عامل بنایا تھا پھر ہم نے بغیر کسی ناراضی کے ان کو معزول کردیا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں ان سے قوی شخص مل گیا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے خوف آیا کہ ہم ان کو ان کے عہدے پر برقرار رکھیں جب کہ ہمیں ان سے زیادہ قوی شخص مل گیا ہے، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے وقت دیکھا کہ وہ جا رہے ہیں اس عامل کے پاس جس کو عامل بنایا گیا تھا اور حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہاکیلے ہاتھ باندھے بیٹھے ہیں ، آپ نے فرمایا دنیا تو کمینی ہے۔