حدیث نمبر: 32589
٣٢٥٨٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: كتب رجل من أهل العراق إلى ابن الزبير حين بويع: سلام عليك، فإني أحمد إليك اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد فإن لأهل طاعة اللَّه ولأهل (الخير) (١) علامة يعرفون بها (ويعرف) (٢) فيهم من: الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والعمل بطاعة اللَّه، واعلم ⦗١١١⦘ أنما مثل الإمام مثل السوق يأتيه (من) (٣) زكا فيه، فإن كان برًا (جاءه) (٤) أهل البر ببرهم، وإن كان فاجرا جاءه أهل الفجور بفجورهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور

وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو عراق کے ایک آدمی نے ان کی طرف خط لکھا : ” السلام علیکم ! میں آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔ اما بعد ! اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں اور اہل خیر کی کچھ علامتیں ہیں جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں اور وہ چیزیں ان میں نظر آتی ہیں، امر بالمعروف ، نھی عن المنکر، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجا لانا، اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے ، کہ اس میں اسی طرح کے لوگ آتے ہیں جس طرح کی اس کے اندر چیزیں ہوتی ہیں، اگر وہ اہل خیر ہو تو اس کے پاس بھی نیک لوگ آتے ہیں اور اگر وہ فاجر ہو تو اس کے پاس بھی فاسق و فاجر لوگ اپنے فسق و فجور کے ساتھ آتے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (الخبرة)، وفي [ط]: (الجبرة).
(٢) في [م]: (تعرف).
(٣) في [هـ]: (ما).
(٤) في [ك]: (فجاءه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32589
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32589، ترقيم محمد عوامة 31204)