حدیث نمبر: 32588
٣٢٥٨٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني الوليد بن كثير عن وهب بن كيسان قال: سمعت جابر بن عبد اللَّه يقول: لما كان عام الجماعة بعث معاوية إلى المدينة (بسر) (١) بن أرطأة ليبايع أهلها على راياتهم وقبائلهم، فلما كان يومٌ جاءتْه الأنصار جاءته بنو (سَلِمة) (٢) فقال: أفيهم جابر؟ قالوا: لا، قال: فليرجعوا، فإني لست مبايعهم حتى يحضر جابر، قال: فأتاني، فقال: ناشدتك اللَّه إلا ما انطلقت معنا فبايعت فحقنت دمك ودماء قومك، فإنك إن لم تفعل قتلت مقاتلتنا وسبيت ذرارينا، قال: (فاستنظرتهم) (٣) إلى الليل، فلما أمسيت دخلت على أم سلمة زوج النبي ﷺ فأخبرتها الخبر، فقالت: يا ابن (أخي) (٤) انطلق فبايع واحقن دمك ودماء قومك، فإني قد أمرت ابن أخي يذهب فيبايع (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وھب بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جماعت کے سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت بسر بن ارطاۃ رحمہ اللہ کو مدینہ منورہ بھیجا تاکہ وہ اہل مدینہ سے ان کے جھنڈوں اور قبیلوں کے اعتبار سے بیعت کرلیں، سو جس دن ان کے پاس انصار کے آنے کا دن تھا اس روز ان کے پاس بنو سلمہ آئے ، انہوں نے کہا کیا ان لوگوں میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں ، انہوں نے کہا چلو واپس چلے جاؤ، میں اس وقت تک ان سے بیعت نہیں لوں گا جب تک ان کے اندر حضرت جابر نہیں ہوں گے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہ لوگ میرے پاس آئے اور کہا ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ چل کر بیعت کریں تاکہ آپ کا اور ہمارے خون محفوظ ہوجائیں، اور کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہمارے لڑ سکنے والے لوگ قتل کردیئے جائیں گے اور ہمارے بچے قید ہوجائیں گے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے رات تک مہلت مانگی، جب رات ہوئی تو میں حضرت ام اسلمہ زوجہ النبی ﷺ کے پاس گیا اور ان کو ساری بات بتائی، انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! جاؤ اور بیعت کرلو اور اپنا اور اپنی قوم کے خون کا تحفظ کرو، کیونکہ میں نے بھی اپنے بھتیجے کو بیعت کا حکم دیا ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (بشر).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (سليم).
(٣) في [أ، هـ]: (فاستنظرهم).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (أم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32588
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32588، ترقيم محمد عوامة 31203)