حدیث نمبر: 32587
٣٢٥٨٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا أبو (محلم) (١) الهمداني عن عامر قال: أتى رجل معاوية فقال: يا أمير المؤمنين عدتك التي وعدتني؟ (قال) (٢): وما وعدتك؟ قال: أن تزيدني مئة في عطائي، قال: ما فعلت؛ قال: بلى، قال: من يعلم ذلك؟ قال: الأسود أو ابن الأسود، قال: ما يقول هذا يا ابن الأسود؟ قال: نعم، قد زدته فأمر له بها، ثم إن معاوية ضرب بيديه إحداهما على الأخرى، فقال: ما بي، مئة زدتها رجلا، ولكن بي غفلتي: أن أزيد رجلا من المهاجرين مئة ثم أنساها، فقال له ابن الأسود: يا أمير المؤمنين فهو (آمنٌ) (٣) عليها، قال: نعم، (قال) (٤): فواللَّه ما زدته شيئًا، ولكنه لا يدعوني رجل إلى خير يصيبه من ذي ⦗١١٠⦘ سلطان إلا شهدت له به، ولا شر أصرفه عنه من ذي سلطان إلا شهدت له به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے امیرالمؤمنین ! میرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تجھ سے کیا وعدہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے وظیفے میں سو درہم کا اضافہ فرمائیں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے کوئی کام کیا تھا ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس بات کو کون جانتا ہے ؟ اس نے کہا اسود، یا کہا ابن الأسود، آپ نے فرمایا اے ابن الاسود یہ کیا کہتا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اے امیرالمؤمنین آپ نے اس کے وظیفے میں اضافہ فرمایا تھا، آپ نے اس اضافے کے دینے کا حکم فرما دیا، پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مجھے اس بات کا غم نہیں کہ میں نے کسی آدمی کے لئے سو دراہم کے اضافے کا حکم دے دیا، بلکہ مجھے اپنی غفلت کا افسوس ہے کہ میں نے مہاجرین کے ایک آدمی کے وظیفے میں سو دراہم کا اضافہ کیا اور پھر میں ان کو بھول گیا ، اس پر ابن الأسود نے فرمایا : اے امیرالمؤمنین ! کیا ان دراہم کے بارے میں وہ بےخوف رہے گا ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! انہوں نے کہا اللہ کی قسم آپ نے اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں فرمایا ، لیکن جو شخص مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے لئے ان پیسوں کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی رئیس سے ملیں گے تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں، اسی طرح جو شخص مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں اس کے لئے کسی شر کے دور کرنے کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی صاحب منزلت آدمی سے پہنچنے کا خوف ہو تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (محكم).
(٢) في [ك، م]: (فقال).
(٣) في [أ، هـ]: (أمر).
(٤) سقط من: [ب، ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32587
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32587، ترقيم محمد عوامة 31202)