حدیث نمبر: 32583
٣٢٥٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن (هزيل) (١) بن شرحبيل قال: خطبهم معاوية فقال: أيها الناس إنكم (جئتم فبايعتموني) (٢) طائعين، ولو بايعتم عبدًا حبشيًا مجدعًا لجئت حتى أبايعه معكم، قال: فلما نزل ⦗١٠٨⦘ عن المنبر قال له عمرو بن العاص: تدري أي شيء جئت به اليوم؟ زعمت أن الناس (بايعوك) (٣) طائعين، ولو بايعوا عبدًا حبشيًا مجدعًا لجئت حتى تبايعه معهم، قال: (فقام) (٤) (فعاد) (٥) إلى المنبر (٦) فقال: أيها الناس وهل كان أحد أحق بهذا الأمر مني (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ھزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! تم لوگ آئے اور تم نے میرے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کرلی، اور اگر تم کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ پر بھی بیعت کرلیتے تو میں بھی تمہارے ساتھ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے جاتا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ منبر سے اترے تو ان سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تم نے آج کیا کام کیا ہے ؟ تم یہ گمان کرتے ہو کہ لوگوں نے تمہارے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کی ہے، اور اگر وہ کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ بیعت کرلیتے تو تم بھی ان کے ساتھ بیعت کرنے کے لئے جاتے، راوی فرماتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ اے لوگو ! کیا اس کام کا مجھ سے زیادہ حق دار بھی کوئی اور شخص ہے ؟

حواشی
(١) في [هـ]: (هذيل).
(٢) في [جـ]: (جئتم فيما بايعتموني)، وفي [أ، ب، ط]: (فيما بايعتموني)، وفي [هـ]: (قيما بايعتموني).
(٣) في [ط]: (بايعوا).
(٤) في [ك، م]: (فقدم).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (معاوية).
(٦) في [جـ، م]: زيادة (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32583
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32583، ترقيم محمد عوامة 31198)