حدیث نمبر: 32582
٣٢٥٨٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن سويد قال: صلى بنا معاوية الجمعة بالنخيلة في الضحى، ثم خطبنا فقال: ما قاتلتكم لتصلوا ولا لتصوموا ولا لتحجوا ولا لتزكوا، وقد أعرف أنكم (تفعلون) (١) ذلك، ولكن إنما قاتلتكم (لأتأمر) (٢) عليكم، (وقد) (٣) أعطاني اللَّه ذلك وأنتم (له) (٤) كارهون (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نخیلہ کے مقام پر زوال کے وقت جمعہ پڑھایا پھر ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں نے تم سے اس لیے قتال نہیں کیا کہ تم نماز پڑھنے لگو نہ اس لئے کہ تم روزے رکھنے لگو، نہ اس لئے کہ تم حج کرنے لگو، اور نہ اس لئے کہ تم زکوٰۃ ادا کرنے لگو، میں خوب جانتا ہوں کہ تم یہ سب کام کرتے ہو، میں نے تم سے اس لئے قتال کیا تاکہ میں تم پر حکومت کروں، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اختیاردے دیا ہے اور تم اس کو ناپسند کرتے ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (تفعلوا).
(٢) في [جـ]: (للآمر).
(٣) في [جـ، ك، م]: (فقد).
(٤) سقط من: [جـ، ك، م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32582
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف سعيد بن سويد، قال البخاري في التاريخ ٣/ ٤٧٧ عن سعيد بن سويد: "لا يتابع عليه".
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32582، ترقيم محمد عوامة 31197)