حدیث نمبر: 3258
٣٢٥٨ - حدثنا أبو خالد عن حميد عن أنس: أن النبي ﷺ سئل عن صلاة الفجر فأمر بلالا فأذن حين طلع الفجر، ثم من الغد حين أسفر، ثم قال: "أين السائل؟ ما بين هذين (١) وقت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فجر کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس وقت اذان دیں جب فجر طلوع ہوجائے اور پھر اگلے دن اس وقت اذان دیں جب روشنی ہوجائے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ فجر کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ذين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3258
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (١٢١١٩)، والنسائي ١/ ٢٧١، والبزار (٣٨٠/ كشف)، وأبو يعلى (٣٨٠١)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٣٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3258، ترقيم محمد عوامة 3244)