حدیث نمبر: 32569
٣٢٥٦٩ - حدثنا حسين بن علي عن (زائدة) (١) عن عبد الرحمن بن الأصبهاني قال: حدثني عبد اللَّه بن شداد قال: قال لي ابن عباس: ألا أعجّبك، قال: إني يومًا في المنزل وقد أخذت مضجعي للقائلة (إذ) (٢) قيل رجل (بالباب) (٣)، قال: [قلت: ما جاء هذا هذه الساعة إلا لحاجة، أدخلوه، قال: فدخل، قال: قلت: لك حاجة؟ قال: متى (يبعث) (٤) ذلك الرجل؟] (٥) قلت: أي رجل؟ قال: علي، قال: قلت: لا يبعث حتى يبعث اللَّه من في القبور، قال: فقال: تقول ما يقول هؤلاء الحمقاء، قال: قلت: أخرجوا هذا عني (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا میں تمہیں تعجب میں ڈالنے والی بات نہ بتاؤں ؟ پھر فرمانے لگے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھا اور قیلولے کے لیے بستر پر لیٹ چکا تھا ، مجھے کہا گیا کہ دروازے پر ایک آدمی ہے، میں نے کہا یہ شخص اس وقت کسی ضرورت سے ہی آیا ہوگا ، اس کو اندر بھیج دو ، کہتے ہیں کہ وہ اندر داخل ہوا ، فرماتے ہیں کہ میں نے کہا آپ کس ضرورت سے آئے ہیں ؟ وہ کہنے لگا آپ ان صاحب کو قبر سے کب نکالیں گے ؟ میں نے کہا : کون سے آدمی کو ؟ کہنے لگا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو، میں نے کہا ان کو قبر سے اسی وقت اٹھایا جائے گا جب اللہ تعالیٰ قبر والوں کو اٹھائیں گے، فرماتے ہیں کہ وہ کہنے لگا کیا آپ بھی ایسی بات کہتے ہیں جو یہ بیوقوف لوگ کہتے ہیں ؟ میں نے کہا اس آدمی کو میرے پاس سے نکال دو ۔

حواشی
(١) في [جـ]: (زياد).
(٢) في [ك]: (إذا).
(٣) في [ب]: (للباب).
(٤) في [ب]: (يثوب)، وفي [أ، ط]: (يتوب).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32569، ترقيم محمد عوامة 31185)