٣٢٥٦ - حدثنا ابن علية عن عوف عن أبي المِنْهَال عن أبي (برزة) (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي (الهجير) (٢) (التي) (٣) (تدعونها) (٤) الأولى (حين) (٥) تدحض ⦗١٩٦⦘ الشمس، ويصلي العصر، ثم يرجع أحدنا إلى رحله في أقصى المدينة (والشمس) (٦) حية قال: ونسيت ما قال في المغرب، قال: وكان يستحب أن يؤخر من العشاء التي تدعونها العتمة، وكان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه، وكان يقرأ بالستين إلى المائة (٧).حضرت ابو برزہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج درمیانِ آسمان سے مغرب کی طرف زائل ہوجاتا تھا۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب ہم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے بعد اپنی سواری پر مدینہ کے کنارے سے چکر لگا کر واپس آجاتا اور سورج ابھی روشنی برسارہا ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مغرب کا جو وقت بیان کیا وہ میں بھول گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ عشاء کی نماز کو قدرے تاخیر سے پڑھیں۔ فجر کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب اتنی روشنی ہوجاتی کہ آدمی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچاننے لگتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔