حدیث نمبر: 32558
٣٢٥٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن (عبد الملك) (١) بن أبجر قال: بعث ابن ⦗١٠٠⦘ أوسط بالشعبي إلى الحجاج وكان عاملًا على الري، قال: فأدخل على ابن أبي مسلم وكان الذي بينه وبينه لطيفًا، قال: (فعذله) (٢) ابن أبي مسلم وقال: إني مدخلك على الأمير فإن ضحك في وجهك فلا تضحكن، قال: فأدخل عليه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن ابجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن اوسط نے شعبی رحمہ اللہ کو حجاج کے پاس بھیجا جبکہ وہ ریّ کا گورنر تھا راوی فرماتے ہیں کہ ان کو ابن ابی مسلم کے پاس پہنچا یا گیا ، ان دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے، ابن ابی مسلم نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ میں آپ کو امیر کے پاس پہنچاتا ہوں اگر امیر تیرے سامنے ہنسے تو تم مت ہنسنا، راوی کہتے ہیں اس کے بعد ان کو حجاج کے پاس پہنچایا گیا۔

حواشی
(١) سقط من جميع النسخ.
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فعزله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32558
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32558، ترقيم محمد عوامة 31175)