حدیث نمبر: 32557
٣٢٥٥٧ - (١) (حدثنا) (٢) حسين بن علي قال: قال عبد الملك: دخل (شقيق) (٣) على الحجاج فقال: ما اسمك؟ قال: ما بعث إلي الأمير حتى علم اسمي، قال: أريد أن أستعين بك على بعض عملي، قال: فقال: (أما) (٤) إني (٥) أخاف (عليك) (٦) نفسي، (قال) (٧): فاستعفاه فأعفاه، قال: فلما خرج من عنده قام وهو يقول: هكذا (فتعاشى) (٨)، قال: فقال الحجاج: سددوا الشيخ، سددوا الشيخ.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد الملک نے فرمایا کہ شقیق رحمہ اللہ حجاج کے پاس تشریف لائے ، حجاج نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ امیر نے میرا نام جاننے سے پہلے مجھے نہیں بلایا، حجاج نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنے بعض کاموں میں مدد لوں، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے تیرے پاس اپنی جان کا خوف ہے، چناچہ انہوں نے اس کے کام سے معذرت چاہی اور حجاج نے ان کی معذرت قبول کرلی، راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ اس کے پاس سے نکلے تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ یہ اسی طرح بتکلف اندھا بنتا رہے گا، راوی کہتے ہیں کہ حجاج نے کہا : شیخ کو سیدھا کرو، شیخ کو سیدھا کرو۔

حواشی
(١) في [م، ك] زيادة: (أبو بكر بن أبي شيبة قال: نا)
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ط، م]: (سفيان).
(٤) زيادة (أما) من: [جـ، م، ك].
(٥) زيادة (ما) من: [أ، ب، ط].
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) زيادة (قال) من: [جـ، م، ك].
(٨) أي: يخطئ الطريق، وفي [أ، ط، هـ]: (انبعاثنا)، وفي [م]: (يتغاشى)، وعند ابن عساكر ٢٣/ ١٨٢: (فتركت الباب وعمدت إلى الحائط)، وفي المجالسة ١/ ٤٦٢: (فمضيت فغفلت عن الباب يمنة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32557، ترقيم محمد عوامة 31174)