حدیث نمبر: 32543
٣٢٥٤٣ - حدثنا حسين بن محمد قال: حدثنا جرير بن حازم عن نافع أن ابن عمر (رأى) (١) رؤيا كأن ملكا انطلق به إلى النار، فلقيه ملك آخر وهو (يزعه) (٢) ⦗٩٥⦘ فقال: لم ترع، هذا نعم الرجل لو كان يصلي من الليل، قال: فكان بعد ذلك يطيل الصلاة في الليل، قال: وقد انتهى بي إلى جهنم وأنا أقول: أعوذ باللَّه من النار، فإذا هي ضيقة كالبيت أسفله واسع وأعلاه ضيق، وإذا رجال من قريش أعرفهم (منكسون) (٣) بأرجلهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ان کو دوزخ کی طرف لے کر چلا، اس کو دوسرا فرشتہ ملا اور وہ اس فرشتے کو منع کرنے لگا، اور اس نے مجھ سے کہا آپ ڈریے نہیں، یہ شخص کیا ہی بہترین آدمی ہے اگر رات کا کچھ حصہ نماز پڑھا کرے، راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس کے بعد رات کو لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ مجھے جہنم کے قریب لے گیا اور میں کہہ رہا تھا کہ میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک کمرے کی مانند ہے جس کا نچلا حصہ کشادہ اور اوپرکا حصّہ تنگ ہو، اور میں نے دیکھا کہ قریش کے بہت سے آدمی اوندھے منہ اس میں پڑے ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں۔

حواشی
(١) سقطت من: [ط].
(٢) في [ط]: (يدعه)، وفي [أ، ب]: (يرعه)، وفي [جـ]: (يرغه).
(٣) في [ك]: (منكسين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32543
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٥٦)، ومسلم (١٤٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32543، ترقيم محمد عوامة 31162)