حدیث نمبر: 32541
٣٢٥٤١ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: قيل لمحمد بن سيرين: إن فلانًا يضحك، قال: ولم لا يضحك؟ فقد ضحك من هو خير منه، حدثت أن عائشة قالت: ضحك النبي ﷺ (١) من رؤيا قصها عليه رجل ضحكًا ما رأيت ضحك من شيء قط أشد منه، قال محمد: وقد علمت ما الرؤيا وما تأويلها، رأى كأن رأسه قطع فذهب يتبعه، فالرأس النبي ﷺ والرجل يزيد أن يلحق بعمله عمل رسول اللَّه ﷺ وهو لا يدركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ فلاں آدمی ہنستا ہے، آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ ہنسے ؟ جبکہ اس سے بہترین ذات ہنسی ہے، مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کا خواب سن کر اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ کو اس سے زیادہ کسی چیز پر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے علم ہے کہ کیا خواب تھا اور اس کی کیا تعبیر ہے ؟ اس آدمی نے دیکھا کہ اس کا سر قلم کردیا گیا ، اور وہ اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے، تو سر سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آدمی چاہتا ہے کہ اپنے عمل کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالے لیکن وہ آپ کو نہیں پاسکتا۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: زيادة (ضحكًا).
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عائشة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32541
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32541، ترقيم محمد عوامة 31160)