حدیث نمبر: 3254
٣٢٥٤ - حدثنا وكيع عن (بدر) (١) بن عثمان عن أبي بكر بن (أبي) (٢) موسى سمعه (منه) (٣) عن أبيه: أن سائلًا أتى النبي ﷺ فسأله (عن) (٤) مواقيت الصلاة فلم يرد (عليه) (٥) شيئا، قال: ثم أمر بلالًا (فأقام حين انشق الفجر فصلى، ثم أمره) (٦) فأقام الصلاة والقائل يقول: قد زالت الشمس، أو لم تزل، وهو كان أعلم منهم، ثم أمره فأقام العصر والشمس مرتفعة، وأمره (فأقام المغرب حين وقعت الشمس، (ثم) (٧) أمره) (٨) فأقام العشاء (عند) سقوط (الشفق) (٩)، قال: ثم صلى الفجر من الغد والقائل يقول: قد طلعت الشمس، أو لم تطلع، وهو كان أعلم منهم، وصلى الظهر قريبًا من وقت العصر بالأمس، وصلى العصر والقائل يقول: قد احمرت الشمس، وصلى المغرب قبل أن يغيب الشفق، وصلى العشاء ثلث الليل الأول، ثم ⦗١٩٥⦘ قال: "أَيْنَ السَّائِلُ عَن الْوَقْتِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْن: (وَقْتٌ) " (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے اسے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اس وقت اقامت کہی جب فجر طلوع ہوگئی تھی۔ آپ نے اس وقت نما زپڑھائی۔ پھر انہوں نے اس وقت اقامت کہی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج زائل ہوا ہی ہے یا ہونے والا ہے حالانکہ وہ کہنے والا سب سے زیادہ اوقات کو جانتا ہے۔ پھر عصر کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج ابھی بلند تھا۔ پھر مغرب کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہاجب کہ سورج غروب ہوگیا تھا۔ پھر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہا جبکہ شفق غائب ہوگیا۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا نہیں ہوا۔ جبکہ وہ قائل سب سے زیادہ مواقیت کو جانتا تھا۔ پھر آپ نے ظہر کی نماز گذشتہ عصر کی نماز کے وقت کے قریب پڑھائی۔ اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا ہے۔ پھر مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے کے گذرنے پر پڑھائی۔ پھر فرمایا نمازوں کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ جو وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے وہ نماز کا وقت ہے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (زيد).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ، د، ك]: زيادة.
(٤) في [أ]: (من).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [جـ، ك]: (وأمره).
(٨) سقط ما بين القوسين من: [أ].
(٩) في [هـ]: (الشمس).
(١٠) في [هـ]: (الوقت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3254
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٦١٤)، وأحمد (١٩٧٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3254، ترقيم محمد عوامة 3240)