حدیث نمبر: 32538
٣٢٥٣٨ - حدثنا عبد اللَّه بن بكر قال: (حدثنا) (١) حميد عن أنس قال: رأيت فيما يرى النائم كان عبد اللَّه بن عمر يأكل تمرًا، (قال) (٢): (فكتب) (٣) إليه: إني رأيتك تأكل تمرًا، وهو حلاوة الإيمان إن شاء اللَّه (تعالى) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چھوہارے کھا رہے ہیں ، چناچہ میں نے ان کو خط لکھا کہ میں نے آپ کو چھوہارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، اور اس کی تعبیر ان شاء اللہ تعالیٰ حلاوتِ ایمان ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: سقطت، وفي [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) القائل هو حميد، وفي [هـ]: (فكتبت).
(٤) سقطت في: [أ، ب، جـ، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32538
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32538، ترقيم محمد عوامة 31157)