٣٢٥٣٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا علي بن زيد وأبو عمران الجوني (١) أن سمرة بن جندب قال لأبي بكر: رأيت في المنام (كأني) (٢) (أفتل) (٣) شريطًا وأضعه إلى جنبي و (نقد) (٤) (يأكلنه) (٥)، قال: تزوج امرأة ذات ولد يأكل كسبك، قال: ورأيت ثورا خرج من جحر فلم يستطع يعود فيه، قال: هذه العظيمة تخرج من في الرجل فلا يستطيع أن يردها، قال: (ورأيت) (٦) كأنه (قيل) (٧): الدجال يخرج، فجعلت (أتقحم) (٨) (الجدر) (٩) فالتفت خلفي ففرجت لي الأرض فدخلتها، قال: يصيبك (قحم) (١٠) في دينك والدجال على أثرك قريبًا (١١).حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید رحمہ اللہ اور ابو عمران جونی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں رسّی بٹ رہا ہوں اور میں نے رسّی بٹ کر اپنے پہلو میں رکھ دی، اور چھوٹی بھیڑیں اسے کھا رہی ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ایک لڑکے والی عورت سے شادی کرو گے جو تمہارا مال کھاجائے گی، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ ایک سوراخ سے نکلا لیکن پھر وہ اس کے اندر نہ جاسکا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ بڑا بول ہے جو آدمی کے منہ سے نکلتا ہے لیکن وہ اس کو واپس لے جانے کی طاقت نہیں رکھتا، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ دیکھا کہ گویا کہا جا رہا ہے کہ دجال نکل رہا ہے ، میں دیواروں کے پیچھے چھپنے لگا، اچانک میں نے اپنے پیچھے دیکھا کہ میرے لیے زمین پھٹ گئی ہے، چناچہ میں اس میں داخل ہوگیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے تیرے دین میں مشکلات پیش آئیں گی اور دجال تیرے بعد عنقریب آجائے گا۔