حدیث نمبر: 32535
٣٢٥٣٥ - حدثنا عبد اللَّه بن بكر السهمي عن حاتم بن أبي صغيرة عن ابن أبي مليكة عن عائشة بنت طلحة عن عائشة أم المؤمنين أنها قتلت جانًا فأُتيت فيما يرى النائم فقيل لها: أم واللَّه لقد قتلت مسلمًا، (قالت) (١): فلم يدخل على أزواج النبي ﷺ؟ فقيل لها: ما يدخل عليك (إلا) (٢) وعليك ثيابك، فأصبحت فزعة وأمرت باثني عشر ألفا (فجعلت) (٣) في سبيل اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت طلحہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک سانپ کو قتل کردیا، چناچہ ان سے خواب میں کہا گیا بخدا تم نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے حجروں میں کیوں داخل ہوا تھا ؟ ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کے پاس اسی وقت آتا ہے جب آپ اپنے کپڑوں میں ہوتی ہیں، چناچہ آپ گھبرا کر اٹھیں اور بارہ ہزار اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم فرمایا۔

حواشی
(١) سطقت من: [ك].
(٢) في [ك]: (ولا).
(٣) في [ك]: (فجعل)، وسقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32535
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32535، ترقيم محمد عوامة 31154)