حدیث نمبر: 32529
٣٢٥٢٩ - حدثنا هوذة بن خليفة عن عوف عن محمد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "الرويا ثلاث: (فالبشرى) (١) من اللَّه، وحديث النفس، وتخويف من الشيطان، فإذا رأى أحدكم رؤيا تعجبه فليقصها (أن) (٢) شاء، وإذا رأى شيئًا يكرهه فلا يقصه على أحد وليقم يصلي" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں ، بعض خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں، اور بعض خواب دل کی باتیں ہوتی ہیں، اور بعض خواب شیطان کی طرف سے ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں، جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس کو چاہیے کہ بیان کر دے اگر اس کا جی چاہے، اور جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کو نہ بتائے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھ لے۔
حواشی
(١) في [ط]: (فابشري).
(٢) في [هـ]: (لمن).
(٣) رجاله ثقات إلا هوذة فصدوق، ويظهر لي أن هذا اللفظ من كلام ابن سيرين كما في البخاري (٧٠١٧)، (قال محمد: وأنا أقول هذه، قال: وكان يقال: الرؤيا ثلاث) ويدل عليه ما في حديث أبي قتادة السابق برقم (٣٢٥٦٣)، والخبر أخرجه مسلم (٢٢٦٣)، وأبو داود (٥٠١٩)، وابن ماجه (٣٩٠٦)، والترمذي (٢٢٧٠).