مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرؤيا
ما عبره عمر ﷺ باب: وہ تعبیرات جو سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہیں
٣٢٥٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: حدثني غير واحد أن قاضيًا من قضاة أهل الشام أتى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين رأيت رؤيا أفظعتني، قال: ما هي؟ قال: رأيت الشمس والقمر يقتتلان والنجوم معهما نصفين، قال: فمع أيهما كنت؟ قال: مع القمر على الشمس، (قال) (١) عمر: ﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً﴾ قال: فانطلق فواللَّه لا تعمل لي عملا أبدا (٢).حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے بیان کیا کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضٗرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور عرض کیا اے امیر المومنین ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، آپ نے فرمایا کیا خواب ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے سورج اور چاند کو آپس میں جنگ کرتے ہوئے دیکھا جبکہ ستارے بھی آدھے آدھے ان کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟ اس نے کہا چاند کے ساتھ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً “ ( اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے پس ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) آپ نے فرمایا : چلے جاؤ، خدا کی قسم تم کبھی میرے لیے کام نہ کرو گے !۔