حدیث نمبر: 32524
٣٢٥٢٤ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن الأسود بن قيس عن عبد اللَّه بن الحارث الخزاعي قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول في خطبته: إني رأيت البارحة ديكًا نقرني ورأيته (يجليه) (١) الناس عني، فلم يلبث إلا (ثلاثًا) (٢) حتى قتله عبد المغيرة: أبو لؤلؤة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن حارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا کہ آپ اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے گزشتہ رات ایک مرغ کو دیکھا کہ اس نے مجھے ٹھونگ ماری ہے اور میں نے دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں، آپ اس کے بعد تین روز نہیں ٹھہرے کہ آپ کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو لؤلؤ نے شہید کردیا۔

حواشی
(١) في [أ]: (يحليه)، وفي (ب): (يخليه).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (قليلًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32524
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32524، ترقيم محمد عوامة 31143)