حدیث نمبر: 32518
٣٢٥١٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: مر صهيب بأبي بكر فأعرض عنه، فقال: مالك أعرضت عني أبلغك شيء تكرهه؟ ⦗٨٤⦘ قال: لا واللَّه إلا (رؤيا) (١) رأيتها (لك) (٢) كرهتها، قال: وما رأيت؟ قال: رأيت يدك مغلولة إلى عنقك على باب رجل من الأنصار يقال له أبو (الحشر) (٣)، فقال (له) (٤) أبو بكر: نعم، ما رأيت جمع (اللَّه) (٥) لي (ديني) (٦) إلى يوم الحشر (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ سے منہ موڑ لیا، حضرت نے فرمایا کہ آپ نے کس بنا پر مجھ سے منہ موڑ لیا ؟ کیا آپ کو میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی ہے ؟ انہوں نے فرمایا بخدا ایسا نہیں ہے، البتہ میں نے آپ کے بارے میں ایک خواب دیکھا ہے جو مجھے برا لگا ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا کہ میں نے آپ کا ہاتھ گردن کے ساتھ بندھا ہوا دیکھا ہے انصار کے ایک آدمی کے دروازے پر جس کا نام ” ابو الحشر “ ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے بہترین خواب دیکھا ہے ، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے میرے دین کو قیامت تک جمع رکھا ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (الرؤيا)، وفي [ب]: (لرؤيا).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب، ط]: (الحسن).
(٤) سقط (له) من: [هـ].
(٥) زيادة من [ك]: (اللَّه).
(٦) في [ب، ط]: (ذنبي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32518، ترقيم محمد عوامة 31136)