مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرؤيا
ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا باب: وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
٣٢٥٠٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن (سلمة) (١) عن عاصم ابن بهدلة عن المسيب بن رافع عن خرشة بن الحر قال: قدمت المدينة فجلست إلى مشيخة في المسجد أصحاب رسول اللَّه ﷺ، قال: فجاء شيخ متوكئ على عصى له، فقال: القوم من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا، قال: فقام خلف سارية فصلى ركعتين، فقمت إليه فقلت له: قال بعض القوم: كذا وكذا، فقال: (٢) الجنة للَّه يدخلها من يشاء، (و) (٣) إني رأيت على عهد ⦗٧٩⦘ رسول اللَّه ﷺ رؤيا، رأيت كأن رجلا (يأتي) (٤) فقال لي: انطلق فذهبت معه فسلك (بي) (٥) في (منهج) (٦) عظيم، (فعرضت) (٧) (لي) (٨) طريق عن يساري فأردت أن أسلكها فقيل: إنك (لست) (٩) من أهلها، ثم عرضت لي طريق عن يميني فسلكتها حتى (١٠) انتهيت إلى (جبل) (١١) (مزلق) (١٢)، فأخذ بيدي [(فأدخلني) (١٣) فإذا أنا على ذروته فلم أتقار ولم أتماسك، وإذا عمود من حديد في ذروته حلقة من ذهب، فأخذ بيدي] (١٤) (فزجل بي) (١٥) (حتى) (١٦) (أخذت) (١٧) بالعروة فقال: استمسك، فقلت: نعم، فضرب العمود برجله (فاستمسكت) (١٨) بالعروة، فقصصتها على رسول اللَّه ﷺ فقال: "رأيت خيرًا، أما (المنهج) (١٩) العظيم فالمحشر، وأما ⦗٨٠⦘ (الطريق) (٢٠) التي (عرض) (٢١) عن يسارك فطريق (أهل) (٢٢) النار ولست من أهلها، وأما (الطريق) (٢٣) التي عرضت عن يمينك فطريق أهل الجنة، وأما (الجبل) (٢٤) الزلق فمنزل الشهداء، وأما العروة التي استمسكت بها فعروة الإسلام، فاستمسك بها حتى تموت" قال: فأنا ارجو أن أكون من أهل الجنة، (قال) (٢٥): فإذا (هو) (٢٦) عبد اللَّه بن سلام (٢٧).حضرت خرشہ بن حرّ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور میں مسجد میں کچھ عمر رسیدہ لوگوں کے پاس بیٹھ گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتے ہوئے تشریف لائے، لوگوں نے کہا جس کو خواہش ہو کہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے وہ ان کو دیکھ لے، راوی فرماتے ہیں کہ وہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور دو رکعتیں پڑھیں، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ بعض لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ جنت میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے داخل فرمائیں گے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ چلیے، میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ایک بڑے راستہ کی طرف لے گیا ، میرے بائیں جانب ایک اور راستہ پھیل گیا، میں نے چاہا کہ اس راستے پر چلوں تو کہا گیا کہ تو اس راستے والوں میں سے نہیں ہے، پھر میرے دائیں جانب ایک راستہ پھیل گیا، میں اس راستے پر چل پڑا یہاں تک کہ میں ایک چکنے پہاڑ پر پہنچا ، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چڑھایا، یہاں تک کہ میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا لیکن میں ٹھہر نہیں پا رہا تھا اور میرے پاؤں نہیں جم رہے تھے، اس اثناء میں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا جس کے بالائی حصّے پر سونے کا ایک دائرہ تھا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دھکیلا یہاں تک کہ میں نے کڑے کو پکڑ لیا، اس نے کہا مضبوطی سے اس کو تھام لو، میں نے کہا ٹھیک ہے، اس نے ستون کو پاؤں سے ٹھوکر دی اور میں نے کڑے کو مضبوطی سے تھام لیا، میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا ، آپ نے فرمایا تم نے بھلائی کی چیز دیکھی ہے، بڑا راستہ تو میدانِ حشر ہے، اور وہ راستہ جو تمہارے بائیں جانب پھیلا وہ اہل جہنم کا راستہ ہے اور تم ان میں سے نہیں ہو، اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب پھیلا وہ اہل جنت کا راستہ ہے ، اور چکنا پہاڑ شہداء کا مقام ہے ، اور وہ کڑا جس کو تم نے تھاما تھا وہ اسلام کا کڑا ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے، وہ بزرگ صحابی فرمانے لگے مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا ، راوی فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ وہ صحابی عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔