مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرؤيا
ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا باب: وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
٣٢٥٠٨ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا (عوف) (١) عن أبي رجاء قال: حدثنا سمرة بن جندب قال: كان رسول اللَّه ﷺ (مما) (٢) يقول لأصحابه: "هل رأى أحد منكم رؤيا" فيقص عليه ما شاء اللَّه أن يقص، فقال لنا ذات غداة: "إني أتاني الليلة آتيان أو اثنان -الشك من هوذة- (فقالا) (٣) لي: انطلق، فانطلقت معهما، ⦗٧٥⦘ وإنا أتينا على رجل مضطجع وإذا آخر قائم عليه بصخرة (وإذا هو يهوي بالصخرة) (٤) لرأسه فيثلغ (٥) رأسه فيتدهده الحجر هاهنا فيأخذه ولا يرجع إليه [حتى (يصح) (٦) رأسه] (٧) كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به مثل المرة الأولى، قال: قلت لهما: سبحان اللَّه ما هذا؟ فقالا لي: انطلق (٨)، فانطلقنا حتى أتينا على رجل مستلق لقفاه فإذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد وإذا هو يأتي أحد شقي وجهه فيشرشر (شدقه إلى) (٩) قفاه وعينه إلى قفاه ومنخره إلى قفاه، ثم يتحول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ذلك فما يفرغ منه حتى (يصبح) (١٠) ذلك الجانب كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به كما (فعل) (١١) في المرة الأولى، فقلت لهما: سبحان اللَّه ما هذا؟ قال: (قالا) (١٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى أتينا على مثل بناء التنور، قال: فأحسب أنه قال: سمعنا فيه لغطًا وأصواتًا، (فانطلقنا) (١٣) فإذا فيه رجال ونساء عراة، وإذا هم يأتيهم (لهب) (١٤) من أسفل منهم، فإذا أتاهم ذلك (اللهب) (١٥) ⦗٧٦⦘ ضوضوا، قال: قلت لهما: ما هؤلاء؟ قال: قالا لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا حتى أتينا على نهر حسبت أنه قال: أحمر مثل الدم، فإذا في النهر رجل يسبح، وإذا على شاطئ النهر رجل قد جمع عنده حجارة كثيرة، وإذا ذلك السابح يسبح ما (سبح) (١٦) ثم يأتي ذلك الذي قد جمع (١٧) الحجارة فيفغر له فاه فيلقمه حجرًا فيذهب فيسبح ما (سبح) (١٨)، ثم يأتي ذلك الذي كلما رجع فغر له فاه فألقمه الحجر، قال: قلت: ما هذا؟ (قال) (١٩): (قالا) (٢٠) لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا فأتينا على رجل كريه المرآة كأكره ما أنت راء رجلًا مرآة وإذا هو عند نار يحثها ويسعى حولها، قال: قلت لهما: ما هذا؟ (قال) (٢١): (قالا) (٢٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى أتينا على روضة (معتمة) (٢٣) فيها (من) (٢٤) كل نور الربيع، وإذا بين ظهراني الروضة رجل طويل لا أكاد أرى رأسه طولًا في السماء، وإذا حول الرجل (من أكثر) (٢٥) ولدان رأيتهم قط، (وأحسنه) (٢٦) قال: قلت لهما: ما هذا وما هولاء؟ قال: ⦗٧٧⦘ (قالا) (٢٧) لي: انطلق (انطلق) (٢٨)، فانطلقنا فانتهينا إلى (درجة) (٢٩) عظيمة لم أر قط درجة أعظم منها ولا أحسن، قال: (قالا) (٣٠) لي: أرق فيها، فارتقيتها فانتهينا إلى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة، قال: فأتينا باب المدينة فاستفتحناها ففتح لنا فدخلناها، فتلقانا فيها رجال شطر من خلقهم كأحسن ما أنت راء، وشطر كأقبح ما أنت راء، قال: (قالا) (٣١) لهم: اذهبوا فقعوا في ذلك النهر، قال: فإذا نهر معترض يجري كان ماءه (المَحْضُ) (٣٢) بالبياض قال: فذهبوا فوقعوا فيه ثم رجعوا إلينا وقد ذهب السوء عنهم وصاروا في أحسن صورة، قال: (قالا) (٣٣) (لي) (٣٤): هذه جنة عدن، وها هو ذاك منزلك، قال: [(فسما) (٣٥) بصري صعدًا فإذا قصر مثل الربابة البيضاء، قالا لي: هذاك منزلك، قال] (٣٦): قلت لهما: بارك اللَّه فيكما ذراني (فلأدخله) (٣٧)، قال: قالا لي: أما الآن فلا وأنت داخله، قال: قلت لهما: إني قد رأيت هذه الليلة عجبًا فما هذا الذي رأيت؟ قال: قالا: أما إنا سنخبرك، أما الرجل الأول الذي أتيت عليه يثلغ رأسه بالحجر فإنه رجل يأخذ القرآن وينام عن الصلاة ⦗٧٨⦘ المكتوبة، وأما الرجل الذي أتيت (عليه) (٣٨) يشرشر شدقه وعينه (٣٩) ومنخره إلى قفاه فإنه رجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق، وأما الرجال والنساء العراة الذين في مثل التنور فإنهم الزناة والزواني، وأما الرجل الذي يسبح في النهر ويلقم الحجارة فإنه آكل الربا، وأما الرجل الذي عند النار كريه المرآة فإنه مالك خازن جهنم، وأما الرجل الطويل الذي في الروضة فإنه إبراهيم، وأما الولدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة"، قال: فقال بعض المسلمين: يا رسول اللَّه وأولاد المشركين؟ قال [رسول اللَّه ﷺ: "وأولاد المشركين] (٤٠) وأما القوم الذين شطر منهم كأقبح ما رأيت وشطر كأحسن ما رأيت فإنهم قوم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا فتجاوز اللَّه عنهم" (٤١).حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ پس آپ پر جو اللہ تعالیٰ چاہتا بیان کیا جاتا، ایک صبح آپ نے ہم سے فرمایا : بیشک میرے پاس آج رات دو آدمی آئے، ” راوی نے ” آتیان “ کا لفظ بیان کیا یا ” اثنان “ کا، “ ان دو آدمیوں نے مجھ سے کہا چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہم ایک آدمی کے پاس پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے سرہانے ایک چٹان اٹھائے کھڑا تھا، اچانک اس نے اس کے سر پر چٹان پھینک کر اس کا سر کچل دیا، پس پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا گیا، وہ آدمی جا کر اس پتھر کو اٹھاتا ہے اور ابھی اس لیٹے ہوئے آدمی کے پاس نہیں پہنچتا کہ اس کا سر پہلے کی طرح صحیح سلامت ہوجاتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ پہلے والا عمل دہراتا ہے، آپ فرماتے ہیں میں نے کہا سبحان اللہ ! یہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے چلو۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس پہنچے جو گدّی کے بل لیٹا ہوا ہے، اور دوسرا آدمی اس کے قریب لوہے کا آنکڑا اٹھائے کھڑا ہے اور وہ اس لیٹے ہوئے آدمی کے ایک کلّے کے قریب آ کر اس کے کلّے کو گدّی تک چیر دیتا ہے اور اس کی آنکھ کو بھی گدّی تک چیردیتا ہے اور گلے کو بھی گدّی تک چیر دیتا ہے، پھر دوسری جانب آتا ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی فعل کرتا ہے، وہ اس دوسرے سے کلّے سے فارغ نہیں ہوتا کہ پہلی جانب پہلے کی طرح صحیح و تندرست ہوجاتی ہے، پھر وہ دوسری مرتبہ وہی عمل کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا، میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : سبحان اللہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک تنور جیسی عمارت کے پاس پہنچے ، راوی فرماتے ہیں کہ غالباً آپ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اس تنور میں شوروغل کی آوازیں سنیں، ہم نے اس عمارت میں جھانکا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں، اور نیچے سے آگ کے شعلے آتے ہیں ، پس جب ان کے پاس آگ کے شعلے آتے ہیں تو وہ چیخ و پکار کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے کہا یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہر پر پہنچے ، راوی کہتے ہیں کہ غالباً آپ نے فرمایا : کہ وہ سرخ رنگ کی نہر تھی، خون جیسے رنگ کی، وہاں یہ دیکھا کہ نہر کے اندر ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہے جس نے اپنے ارد گرد بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں وہ تیرنے والا اپنی بساط کے مطابق تیرتا ہوا اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے جس نے اپنے گرد پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں اور اس کے سامنے پہنچ کر اپنا منہ کھولتا ہے چناچہ وہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا ہے، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ وہ مجھ سے کہنے لگے آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہایت بد صورت شخص کے پاس پہنچے، ایسا بد صورت کہ کسی نے اس جیسا بدصورت نہیں دیکھا ہوگا، اور ہم نے دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جس کو وہ بھڑکا رہا ہے اور اس کے گرد چکّر لگا رہا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے مجھ سے کہا : چلے چلیے۔ چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم پہنچے ایک باغ میں ، جس کے اندر موسم بہار کے ہمہ اقسام کے پھول نکل رہے تھے، اور ہم نے باغ کے درمیان ایک لمبے قد کے آدمی کو دیکھا، میں آسمان کی طرف اس کے سر کی اونچائی کو ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں پا رہا تھا ، اور میں نے دیکھا کہ اس آدمی کے گرد بہت زیادہ تعداد میں اور بہت خوب رو بچے تھے، آپ نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے کہا کہ یہ شخص کون ہے ؟ اور یہ بچے کون ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چلیے۔ الغرض ہم چلے اور ایک بڑی سیڑھی کے پاس پہنچے، میں نے اس سے پہلے اس سے بڑی اور اس سے اچھی سیڑھی نہیں دیکھی، آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھیے، میں اس پر چڑھا اور ہم ایک شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا، آپ فرماتے ہیں کہ ہم شہر کے دروازے پر آئے، اور ہم نے دورازہ کھلوانا چاہا تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، چناچہ ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمیں کچھ لوگ ملے جن کے جسم کا ایک حصّہ نہایت خوبصورت اور دوسرا حصّہ نہایت بدصورت ، آپ فرماتے ہیں کہ میرے دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں غوطہ لگاؤ میں نے دیکھا تو ایک نہر چل رہی تھی جس کا پانی انتہائی سفید تھا، آپ فرماتے ہیں کہ وہ گئے اور اس نہر میں کود گئے، پھر وہ ہمارے پاس ایسی حالت میں لوٹے کہ ان سے برائی جاتی رہی ، اور وہ خوب صورت شکل میں بدل گئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں کہنے لگے یہ جنّتِ عدن ہے، اور یہ دیکھیے یہ آپ کا گھر ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میری نظر اوپر کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ سفید بادل جیسا ایک