حدیث نمبر: 32507
٣٢٥٠٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر قال: حدثني أبو بكر بن سالم عن سالم بن عبد اللَّه عن أبيه (أن) (٣) رسول اللَّه (صلى اللَّه) (٤) عليه وسلم قال: "رأيت في النوم كأني أنزع بدلو بكرة على قليب فجاء أبو بكر فنزع دلوًا أو دلوين فنزع نزعًا ضعيفًا واللَّه يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب (فاستقى) (٥) فاستحالت غربًا، فلم أر عبقريا (من الناس) (٦) (يفري) (٧) (فريه) (٨) حتى روى الناس وضربوا (بعطن) (٩) " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم اپنے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں پر لگی چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں، پس ابوبکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، پس انہوں نے کمزوری کے ساتھ کھینچا اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیں گے، پھر عمر بن خطاب آئے اور انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا تو وہ ڈول بہت بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا، میں نے کوئی ایسا زور آور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا عمدہ کام کرنے والا ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پانی کے قریب ٹھہرانے لگے۔

حواشی
(١) في [ب]: (بشير).
(٢) في [ط]: (عبد اللَّه).
(٣) في [ك]: (قال: قال).
(٤) تكررت في: [ك].
(٥) في [هـ]: (فاستسقى).
(٦) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٧) في [ط]: (يقري).
(٨) في [ط]: (فريد).
(٩) في [هـ]: (العطن)، وفي [ط]: (بطعن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32507
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨٢)، ومسلم (٢٣٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32507، ترقيم محمد عوامة 31125)