مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرؤيا
ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا باب: وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
٣٢٥٠٤ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: وفدنا مع زياد إلى معاوية فما أعجب بوفد (ما) (١) أعجب بنا (٢) فقال: يا أبا بكرة، (حدثنا) (٣) بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول -وكانت تعجبه الرؤبا الحسنة (يسأل) (٤) عنها (فسمعته يقول) (٥): "رأيت ميزانًا أنزل من السماء فوزنت فيه أنا وأبو بكر فرجحت بأبي بكر، ووزن أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر، ثم وزن عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان إلى السماء"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "خلافة نبوة ثم يؤتي اللَّه الملك من يشاء"، قال: (فزج) (٦) في (أقفيتنا) (٧) فأخرجنا (٨).حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ ہم زیاد کے ساتھ ایک وفد کی شکل میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ کسی وفد سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا ہم سے خوش ہوئے، راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : اے ابو بکرہ ! ہمیں کوئی ایسی بات بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ کو اچھے خواب پسند تھے جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تھا، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اتاری گئی، پس اس میں میرا اور ابوبکر کا وزن کیا گیا پس میں ابوبکر سے جھک گیا، پھر ابوبکر اور عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر جھک گئے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر عثمان سے جھک گئے، پھر ترازو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ خلافت اور نبوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے حکومت عطا فرمائیں گے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں گدّی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔