مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرؤيا
ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا باب: وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
٣٢٥٠٣ - حدثنا يزيد قال أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه بن عتبة عن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إني رأيت ظلة (تنطف) (٢) سمنًا وعسلًا، وكان الناس يأخذون منها، فبين مستكثر ⦗٧١⦘ وبين مستقل وبين ذلك، وكان (سببًا) (٣) دُلى من السماء فجئتَ (فأخذتَ) (٤) به فعلوتَ، فأعلاك اللَّه، ثم جاء رجل من بعدك فأخذ به (فعلا) (٥) فأعلاه اللَّه، ثم جاء رجل من (بعدكما) (٦) فأخذ به (٧) فعلا فأعلاه اللَّه، [ثم جاء رجل من بعدكم فأخذ به (فانقطع) (٨) به ثم وصل له فعلا (فأعلاه اللَّه) (٩)] (١٠)، فقال أبو بكر: (ائذن لي يا رسول اللَّه) (١١) فاعبرها، فاذن له فقال: أما الظلة فالإسلام وأما السمن والعسل فالقرآن، وأما السبب فما أنت عليه، تعلو فيعليك اللَّه، ثم يكون رجل من بعدك على منهاجك فيعلو فيعليه اللَّه، ثم (يكون) (١٢) رجل من بعدكما فيأخذ بأخذكما فيعلو فيعليه اللَّه، ثم يكون رجل من بعدكم على منهاجكم ثم يقطع به ثم يوصل له فيعلو فيعليه اللَّه، قال: أصبتُ يا رسول اللَّه؟ قال: " (أصبتَ) (١٣) وأخطات"، قال: أقسمت يا رسول اللَّه لتخبرني قال: " (لا) (١٤) تقسم" (١٥).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا میں نے ایک بادل دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا اور لوگ اس میں سے لے رہے ہیں، پس بعض زیادہ لے رہے ہیں اور بعض کم، اس دوران آسمان سے ایک رسّی لٹکائی گئی پس آپ تشریف لائے اور آپ نے اس رسّی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے ۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر لے گئے، پھر آپ کے بعد ایک آدمی آئے انہوں نے بھی رسّی کو پکڑا اور چڑھنے لگے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آئے انہوں نے رسّی کو پکڑا اور چڑھنے لگے، اللہ نے ان کو بھی اوپر پہنچا دیا، پھر آپ تینوں کے بعد ایک آدمی نے اس رسّی کو پکڑا تو وہ رسّی کاٹ دی گئی، پھر اس کو جوڑا گیا تو وہ آدمی بھی اوپر چڑھنے لگے اور اللہ نے ان کو بھی اوپر پہنچا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس خواب کی تعبیر بیان کروں، آپ نے اس کی اجازت دے دی، انہوں نے فرمایا کہ بادل سے مراد اسلام ہے ، اور گھی اور شہد سے مراد قرآن ہے، اور رسّی سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ چل رہے ہیں اور بلندیوں پر چڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے، پھر آپ کے بعد ایک آدمی آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا بلندیوں پر چڑھتا چلا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو بھی اوپر پہنچا دیں گے، پھر ایک آدمی آپ دونوں کے بعد آپ کے نقش قدم پر چلے گا اور بلندی کی طرف جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو بھی اوپر پہنچا دیں گے، پھر آپ تینوں کے بعد ایک آدمی آپ کے نقش قدم پر چلے گا، پھر اس کے سامنے ایک رکاوٹ آئے گی، پھر وہ رکاوٹ ہٹ جائے گی، پس وہ بلندیوں کی طرف چلے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی بلندی پر پہنچا دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی ؟ آپ نے فرمایا تم نے صحیح تعبیر بھی بیان کی اور غلطی بھی کی، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور بتلائیں، آپ نے فرمایا قسم نہ دو ۔