حدیث نمبر: 32500
٣٢٥٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم قال: (أتى) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، رأيت رجلًا يخرج من الأرض، وعلى رأسه رجل في يده مرزبة من حديد، كلما أخرج رأسه ضرب رأسه فيدخل في الأرض ثم يخرج من مكان آخر فيأتيه فيضرب رأسه، (قال) (٢): "ذاك أبو جهل بن هشام، لا يزال (يصنع) (٣) به ذلك إلى يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسلم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں ایک آدمی کو زمین سے نکلتے ہوئے دیکھا، اس کے سر پر ایک آدمی نگران تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز تھا، جب بھی وہ زمین سے سر نکالتا وہ آدمی اس کے سر پر گرز مارتا جس سے وہ پھر زمین میں دھنس جاتا، پھر وہ دوسری جگہ سے نکلتا تو پھر وہ آدمی اس کے پاس آ کر اس کے سر پر گُرز مارتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص ابو جھل بن ہشام ہے اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا۔

حواشی
(١) في [أ]: (أنا).
(٢) في [جـ، ك]: (فقال).
(٣) في [ط]: (يضع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرؤيا / حدیث: 32500
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مسلم بن صبيح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32500، ترقيم محمد عوامة 31118)