٣٢٤٤٥ - حدثنا ابن نمير قال حدثنا مالك بن مغول عن زبيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كيف أصبحت يا حارث بن مالك؟ " قال: أصبحت مؤمنًا حقًا، قال: "إن لكل قول حقيقة (١) "، قال: أصبحت عزفت نفسي عن الدنيا (وأسهرت) (٢) ليلي وأظمأت نهاري، (وكأني) (٣) أنظر إلى عرش ربي قد أبرز للحساب، (وكأني) (٤) أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون في الجنة، (وكأني) (٥) أسمع عواء أهل النار، قال: فقال له: "عبد نور الإيمان في قلبه، (إن) (٦) عرفت فالزم" (٧).حضرت زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حارث بن مالک رضی اللہ عنہ تم نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میرے نفس نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی، پس میں نے راتوں میں خود کو جگایا۔ اور دن میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ حساب لینے کے لیے ظاہر ہوگیا۔ اور گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل جہنم کی چیخ و پکار کی آواز سن رہا ہوں، راوی کہتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : یہ ایسا بندہ ہے کہ ایمان نے اس کے دل میں نور کو بھر دیا ہے۔ اگر تو نے اس کو پہچان لیا تو پھر اس کو لازم پکڑو۔