حدیث نمبر: 32443
٣٢٤٤٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون (قال) (٢): أخبرنا أبو معشر عن محمد (ابن) (٣) صالح الأنصاري أن رسول اللَّه ﷺ لقي عوف بن مالك فقال: كيف أصبحت يا عوف بن مالك؟ قال: أصبحت مؤمنًا حقًا، (فقال) (٤) رسول اللَّه ﷺ: "إن لكل قول حقيقة، فما حقيقة ذلك؟ " (فقال) (٥): يا رسول اللَّه (ألم أظلف) (٦) نفسي عن الدنيا، (أسهرت) (٧) ليلي وأظمأت هواجري وكأني أنظر إلى عرش ربي، وكأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها، وكأني أنظر إلى أهل النار يتضاغون فيها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "عرفت وآمنت فالزم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن صالح الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو فرمایا : اے عوف بن مالک ! تو نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں نے اپنے نفس کو دنیا سے نہیں روکا ؟ میں نے راتوں میں خود کو جگایا : اور شدید گرمی کی دوپہر میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے جنت میں باتیں کر رہے ہیں، اور گویا کہ میں اہل جہنم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو نے پہچان لیا یا فرمایا تو ایمان لایا پس اس کو لازم پکڑے رکھ۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ط، ك، هـ]: (يونس).
(٢) سقط من: [و].
(٣) سقط من: [و].
(٤) في [ط]: (قال).
(٥) في [و]: (قال).
(٦) أي: لم أمنعها وأكفها عما لا يجمل، وفي [و]: (أطلقت)، وفي [هـ]: (أطلب).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (سهرت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ أبو معشر ضعيف، ومحمد بن صالح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32443، ترقيم محمد عوامة 31062)