حدیث نمبر: 32442
٣٢٤٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١): أخبرنا داود عن زرارة بن أوفى ⦗٥٢⦘ عن تميم الداري قال: أول ما يحاسب به العبد (يوم القيامة) (٢) (صلاة) (٣) المكتوبة، فإن أتمها، وإلا قيل: إنظروا (هل) (٤) له من تطوع فأكملت الفريضة من تطوعه، فإن لم تكمل الفريضة (٥)، ولم يكن له تطوع أخذ بطرفيه فقذف به في النار (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زراہ بن اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قیامت میں آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا، اگر وہ پوری نکل آئی تو ٹھیک ورنہ کہا جائے گا : دیکھو کیا اس کے پاس نفلوں کا بھی کوئی ذخیرہ ہے ؟ اگر ہوا تو پھر اس کے نفلوں سے فرض کی تکمیل کردی جائے گی۔ اور اگر اس کے فرائض مکمل نہ ہوئے اور اس کے پاس نفلوں کا ذخیرہ بھی نہ ہوا ۔ تو پھر اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا جائے گا۔ اور اس طرح سے اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
حواشی
(١) سقط من: [و].
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (الصلاة).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: سقط (هل).
(٥) في [ط]: زيادة (من تطوعه فإن لم تكتمل الفريضة).