٣٢٤٣٢ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن يسار قال: بلغ عمر أن رجلًا بالشام يزعم أنه مؤمن، قال: فكتب عمر: (أن) (١) اجلبوه عليَّ فقدم على عمر فقال: أنت الذي تزعم أنك مؤمن، قال: (نعم) (٢)، هل كان الناس على عهد رسول اللَّه ﷺ إلا على ثلاثة منازل: مؤمن وكافر ومنافق؛ واللَّه ما أنا بكافر ولا (منافق) (٣)، (قال) (٤): فقال له عمر: أبسط يدك (٥).حضرت سعید بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر پہونچی کہ شام میں ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ یقینا وہ مومن ہے۔ راوی فرماتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی کہ اس کو میرے پاس حاضر کرو چناچہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو ہی وہ شخص ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ تو مومن ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! کیا لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے نہیں تھے ؟ مومن، منافق اور کافر، اللہ کی قسم میں کافر نہیں ہوں۔ اور نہ میں منافقت کرتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اپنا ہاتھ کشادہ کر۔ حضرت ابن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : انہوں نے پسند کیا جو اس نے کہا ؟ راوی کہتے ہیں : ہاں ! انہوں نے پسند کیا جو اس نے کہا۔