حدیث نمبر: 32428
٣٢٤٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (ذر) (١) عن وائل بن مهانة قال: قال عبد اللَّه: ما رأيت من ناقص الدين والرأي أغلب للرجال ذوي الأمر على أمرهم من النساء، قالوا: يا أبا عبد الرحمن، وما نقصان دينها؟ قال: تركها الصلاة أيام حيضها، قالوا: فما نقصان عقلها؟ قال: لا تجوز شهادة امرأتين إلا بشهادة رجل (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وائل بن مہانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں نے نہیں دیکھا کسی کو عورتوں سے زیادہ ناقص دین اور مشورہ دینے کے اعتبار سے اور ہوشیار مردوں پر ان کے معاملات میں غالب آنے کے اعتبار سے۔ لوگوں نے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن ! ان کے دین میں کیا کمی ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حیض کے دنوں میں ان کا نماز ترک کرنا۔ لوگوں نے عرض کیا : اور ا ن کی عقل کی کمی کیسے ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو عورتوں کی گواہی جائز نہیں مگر ایک آدمی کی گواہی کے ساتھ۔

حواشی
(١) في [ك]: (زر).
(٢) مجهول؛ لجهالة وائل بن مهانة، أخرجه ابن حبان (٣٣٢٣)، والدارمي (١٠٠٧)، والحميدي (٩٢)، وأبو يعلى (٥١١٢)، والحاكم ٢/ ٢٠٧، والحارث (٢٩٧ بغية) والشاشي (٨٧١)، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ٣٢٥، والمزي في تهذيب الكمال ٦/ ٤٥، وابن أبي عمر في الإيمان (٣٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32428، ترقيم محمد عوامة 31048)