حدیث نمبر: 32425
٣٢٤٢٥ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: أخبرنا أبو كعب صاحب الحرير قال: حدثنا شهر بن حوشب قال: قلت لأم سلمة: يا أم المؤمنين، ما كان أكثر دعاء ⦗٤٦⦘ رسول اللَّه ﷺ إذا كان عندك؟ [(قال) (١): قالت] (٢): (كان) (٣) أكثر دعائه: "يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك" قلت: يا رسول اللَّه، ما أكثر دعاءك؛ يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك؟ قال: "يا أم سلمة، إنه ليس آدمي إلا وقلبه بين إصبعين من أصابع اللَّه، ما شاء منها أقام وما شاء أزاغ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شھر بن حوشب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے کون سی دعا کرتے تھے ؟ راوی کہتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر یہ دعا ہی ہوتی ہے : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جسے چاہے سیدھا کردیتا ہے اور جسے چاہے ٹیڑھا کردیتا ہے۔

حواشی
(١) في [ك]: سقط (قال).
(٢) في [جـ]: تقديم وتأخير.
(٣) في [أ، ب، جـ، ط]: سقط (كان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32425
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شهر بن حوشب صدوق وصرح بالسماع، أخرجه أحمد (٢٦٦٧٩)، والترمذي (٣٥٢٢)، وابن أبي عاصم في السنة (٢٢٣)، وأبو يعلى (٦٩٨٦)، والطيالسي (١٦٠٨)، والطبراني ٢٣ (٧٧٢)، والآجري في الشريعة ص ٣١٦، وعبد بن حميد (١٥٣٤)، وابن جرير في التفسير (٦٦٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32425، ترقيم محمد عوامة 31045)