حدیث نمبر: 32405
٣٢٤٠٥ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال: (فيقال) (١) له: سل تعطه -يعني النبي ﷺ (فاشفع) (٢) تشفع وادع تجب، (قال) (٣): (فيرفع) (٤) رأسه فيقول: " (أمتي) (٥) أمتي" -مرتين أو ثلاثًا، (فقال) (٦) ⦗٤٠⦘ سلمان: (يشفع) (٧) في كل من في قلبه مثقال حبة حنطة من إيمان، أو (قال) (٨): مثقال شعيرة من إيمان أو (قال) (٩): مثقال حبة خردل من إيمان، (قال) (١٠) سلمان: (فذلكم) (١١) المقام المحمود (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ان کو کہا جائے گا : مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو۔ شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ دعا کرو قبول کی جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے اور ارشاد فرمائیں گے دو یا تین مرتبہ ! میرے رب ! میری امت ، میری امت ! پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے ہر اس شخص کے بارے میں جس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، یا فرمایا : کہ جو کے دانے کے برابر ایمان ہو، یا فرمایا : کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے مقام محمود ہے۔

حواشی
(١) في [و]: (يقال)، وفي [جـ، ط، ك]: (قال).
(٢) في [و]: (اشفع).
(٣) زيادة في [و]: (قال).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (فرفع).
(٥) في [و]: (رب).
(٦) في [و]: (قال).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (يشفع)، وسقط من: [هـ، و].
(٨) زيادة في: [و].
(٩) زيادة في: [و].
(١٠) في [و]: (فقال).
(١١) في [هـ]: (فذلك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (٨١٣)، والطبراني (٦١١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32405، ترقيم محمد عوامة 31026)