٣٢٣٨٢ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن (سليمان) (٢) بن ميسرة والمغيرة بن شبل عن طارق بن شهاب الأحمسي عن (سلمان) (٣) قال: إن مثل الصلوات الخمس كمثل سهام الغنيمة؛ فمن (يضرب) (٤) فيها بخمسة خير ممن يضرب فيها بأربعة، ومن يضرب فيها (بأربعة) (٥) خير ممن يضرب فيها بثلاثة، ومن يضرب فيها بثلاثة خير ممن يضرب فيها بسهمين، ومن يضرب فيها بسهمين خير ممن يضرب فيها (بسهم) (٦)، وما جعل اللَّه من له سهم في الإسلام (كمن) (٧) لا سهم له (٨).حضرت طارق بن شھاب الاحمسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک پانچ نمازوں کی مثال غنیمت کے حصول کی سی ہے۔ پس جو شخص اس میں سے پانچ حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے چار حصے لیتا ہے۔ اور جو شخص اس میں سے چار حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے تین حصے لیتا ہے اور جو شخص اس میں سے تین حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے دو حصے لیتا ہے اور جو شخص اس میں سے دو حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے، اس سے جو ایک حصہ لیتا ہے۔ اور اللہ نہ بنائے اس شخص کو جس کا اسلام میں ایک حصہ ہو اس کی طرح جس کا کوئی حصہ نہیں۔