حدیث نمبر: 32356
٣٢٣٥٦ - حدثنا ابن علية عن حجاج (بن) (١) أبي عثمان عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء (بن يسار) (٢) عن معاوية بن الحكم السلمي قال: كانت لي جارية ترعى غنما لي في قبل أحد (والجوانية) (٣)، (فاطلعتها) (٤) ذات يوم وإذا الذئب قد ذهب بشاة من غنمها، قال: وأنا رجل من بني آدم، آسف كما (يأسفون) (٥) لكني صككتها صكة، فأتيت (٦) رسول اللَّه ﷺ فعظم ذلك (علي) (٧) (فقلت) (٨): يا رسول اللَّه أفلا أعتقها، قال: "ائتني بها" (٩) فقال لها: "أين اللَّه؟ " قالت: في السماء، قال: "من أنا؟ " قالت: (أنت) (١٠) رسول اللَّه، قال: " (اعتقها) (١١) فإنها مؤمنة" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میری ایک باندی تھی جو احد اور جوانیہ مقام پر میری بکریاں چراتی تھی۔ پس ایک دن میں اس کے پاس گیا تو اچانک ایک بھیڑیا ریوڑ میں سے ایک بکری لے گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آدم کے بیٹوں میں سے ایک آدمی ہوں میں نے افسوس کیا جیسا کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ لیکن میں نے اس کے چہرے پر زور سے تھپڑ دے مارا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے یہ بہت ناگوار گزرا تھا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو آزاد کردو بیشک یہ مومن ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (عن).
(٢) سقط من: [و].
(٣) سقط من: [هـ]، وفي [ط]: (واكوانية).
(٤) في [ط]: (فاطلقها).
(٥) في [ك]: (يسافون).
(٦) زيادة في [و]: (إلى).
(٧) في [أ، ب، ط]: سقطة
(٨) في [جـ]: (قلت).
(٩) في [هـ]: زيادة (فقال: فأتيته بها).
(١٠) في [جـ]: (أنك).
(١١) في [هـ]: (فاعتقها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٣٧)، وأحمد (٢٣٧٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32356، ترقيم محمد عوامة 30979)