حدیث نمبر: 32350
٣٢٣٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن علي بن زيد عن أم محمد أن رجلا قال لعائشة: ما الإيمان؟ (قالت) (١): أفسر أم أجمل؟ قال: (لا بل) (٢) أجملي، (قالت) (٣): من سرته حسنته، وساءته، سيئته فهو مؤمن (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام محمد رحمہ اللہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ایمان کی علامت کیا ہیـ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تفصیل سے بیان کروں یا مختصر طور پر بیان کروں ؟ اس نے کہا : نہیں بلکہ اجمالاً بیان کریں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس کو اس کی نیکی اچھی لگے اور اس کی برائی کھٹکے تو وہ مومن ہے۔

حواشی
(١) في [و]: (فقالت).
(٢) سقط من: [و].
(٣) في [جـ، ك، و]: (فقالت).
(٤) مجهول؛ لجهالة أم محمد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32350
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32350، ترقيم محمد عوامة 30973)