مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الإيمان
ما قالوا في صفة الإيمان باب: جن لوگوں نے ایمان کی صفت کے بارے میں بیان کیا
٣٢٣٣٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عوف عن عبد اللَّه بن عمرو بن هند الجملي قال: قال علي (١): الإيمان (يبدأه) (٢) (نقطة) (٣) بيضاء في القلب، كلما ازداد ⦗١٤⦘ الإيمان ازدادت بياضًا حتى يبيض القلب كله، والنفاق (يبدأه) (٤) (نقطة) (٥) سوداء في القلب، كلما (ازداد النفاق) (٦) ازدادت سوادًا حتى يسود القلب كله، والذي نفسي بيده لو شققتم (عن) (٧) قلب مؤمن لوجدتموه أبيض (القلب) (٨)، ولو شققتم (عن) (٩) قلب منافق (لو) (١٠) جدتموه أسود (القلب) (١١) (١٢).حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن ھند الجملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایمان کی شروعات دل میں ایک سفید نقطہ سے ہوتی ہے ۔ جیسے جیسے ایمان بڑھتا رہتا ہے سفیدی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایمان کے نور سے مومن کا سارا دل سفید ہوجاتا ہے اور نفاق کی شروعات دل میں ایک سیاہ نقطہ سے ہوتی ہے، جیسے جیسے نفاق بڑھتا ہے سیاہی میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہاں تک کہ سارا دل ہی نفاق کی ظلمتوں سے کالا ہوجاتا ہے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم مومن کے دل کو چیر کر دیکھو تو ضرور تم اس کو سفید پاؤ گے ، اور اگر تم منافق کے دل کو چیر کر دیکھو تو ضرور تم اس کو سیاہ پاؤ گے۔