حدیث نمبر: 32330
٣٢٣٣٠ - حدثنا شبابة بن (سوار) (١) (قال: حدثنا) (٢) سليمان بن الغيرة عن ثابت عن أنس قال: كنا قد نهينا أن نسأل رسول اللَّه ﷺ عن شيء، (فكان) (٣) يعجبنا أن يأتي الرجل من أهل البادية [العاقل فيسأله ونحن نسمع، (فجاء) (٤) رجل من أهل البادية] (٥) فقال: يا محمد، (أتانا) (٦) رسولك فزعم (٧) أن اللَّه أرسلك، ⦗١٢⦘ (قال) (٨): "صدق"، قال: فمن خلق السماء؟ قال: "اللَّه"، قال: فمن خلق الأرض؟ قال: "اللَّه" قال: فمن نصب هذه الجبال؟ قال: "اللَّه" قال: فبالذي خلق السماء وخلق الأرض ونصب الجبال آللَّه [أرسلك؟ قال: "نعم"، قال: فزعم رسولك أن علينا خمس صلوات في يومنا (وليلتنا) (٩)، قال: "صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الأرض ونصب الجبال آللَّه] (١٠) أمرك بهذا؟ قال: "نعم"، قال: (فزعم) (١١) رسولك أن [علينا زكاة في أموالنا، قال: "صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الأرض ونصب الجبال آللَّه امرك بهذا؟ قال: "نعم"، قال: وزعم رسولك أن علينا] (١٢) صوم (رمضان) (١٣) في سنتنا، قال: " (١٤) صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الأرض ونصب الجبال آللَّه أمرك بهذا؟ قال: "نعم"، قال: زعم رسولك أن علينا الحج (لمن) (١٥) استطاع إليه سبيلا، قال: "صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الأرض ونصب الجبال آللَّه أمرك بهذا؟ قال: "نعم"، (ثم ولى) (١٦) وقال: والذي بعثك بالحق لا أزداد عليه شيئًا، ولا أنقص (منه) (١٧) شيئًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن صدق دخل الجنة" (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تحقیق ہمیں روک دیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال کریں، تو ہم پسند کرتے تھے کہ گاؤں والوں میں سے کوئی عقل مند آدمی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے اور ہم سنیں، پس ایک دیہاتی آدمی آگیا اور کہنے گا : اے محمد ﷺ! ہمارے پا س آپ کا قاصد آیا اس نے دعویٰ کیا کہ آپ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے پوچھا : زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے، اس نے پوچھا : ان پہاڑوں کو کس نے گاڑا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے ، اس نے کہا : پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان کو پیدا کیا اور زمین کو پیدا کیا، اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ٍ اس نے عرض کیا اور آپ کے قاصد نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازوں کا ادا کرنا ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے پوچھا : پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا : کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہم پر ہمارے مالوں میں زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے پوچھا ! پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا : پس آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا : ہم پر سال میں ایک مہینہ کے روزے رکھنا لازم ہے۔ آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ! اس نے پوچھا : پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا : آپ کے قاصد نے کہا : ہم میں سے ان لوگوں پر حج فرض ہے جو اس کے راستہ کی استطاعت رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔ اس نے پوچھا ! پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں پھر وہ پلٹا اور کہنے لگا : اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا نہ ہی اس میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نہ ہی اس میں سے کسی قسم کی کمی کروں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہوگا۔

حواشی
(١) في [ط]: (سور).
(٢) في [و]: (أخبرنا).
(٣) في [و]: (وكان).
(٤) في [و]: (فجاءه).
(٥) سقط من: [أ، جـ، ط].
(٦) في [و]: (أتى).
(٧) في [و]: زائدة (أنك تزعم)، وفي [هـ]: زيادة (لنا).
(٨) في [و]: (فقال).
(٩) سقط من: [و].
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١١) في [و]: (زعم).
(١٢) سقط من: [أ، ط، ك، هـ]
(١٣) في [أ، جـ]: (شهر)، وكذلك في: [و].
(١٤) في [هـ]: زيادة (نعم).
(١٥) في [هـ]: (من).
(١٦) سقط من: [و].
(١٧) في [جـ]: (منهما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32330
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢)، وأحمد (١٢٤٥٧)، وأصله عند البخاري (٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32330، ترقيم محمد عوامة 30954)