حدیث نمبر: 32329
٣٢٣٢٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس قال: جاء أعرابي إلى النبي ﷺ فقال: السلام عليك يا غلام بني عبد المطلب، فقال: "وعليك"، فقال: إني رجل من أخوالك من بني سعد بن بكر ⦗١٠⦘ وأنا رسول قومي إليك ووافدهم، وأنا سائلك (فمشتدة) (١) مسألتي (إياك) (٢) (ومناشدك) (٣) (فمشيدة) (٤) مناشدتي إياك، قال: "خذ (٥) يا أخا بني سعد"، قال: من خلقك و (من) (٦) هو خالق من قبلك وهو خالق من بعدك؟ قال: "اللَّه"، قال: (نشدتك) (٧) (باللَّه) (٨) أهو أرسلك؟ قال: (نعم)، قال: من خلق السماوات السبع والأرضين السبع وأجرى (بينهن) (٩) الرزق؟ قال: "اللَّه"، قال: (نشدتك) (١٠) (باللَّه) (١١) أهو أرسلك؟ قال: "نعم"، قال: فأنا قد وجدنا في كتابك وأمرتنا رسلك أن نصلي [في اليوم والليلة خمس صلوات (لمواقيتها) (١٢) (نشدتك) (١٣) (باللَّه) (١٤) أهو أمرك (به) (١٥)؟ قال: "نعم"، قال: فإنا وجدنا في كتابك وأمرتنا رسلك] (١٦) أن نأخذ ⦗١١⦘ من حواشي أموالنا فنردها على فقرائنا فنشدتك بذلك أهو أمرك بذلك؟ قال: "نعم"، ثم قال: أما الخامسة فلست بسائلك عنها ولا (أرب) (١٧) لي فيها، قال: ثم قال: (أما) (١٨) والذي بعثك بالحق لأعملن بها ومن أطاعني من قومي، ثم رجع فضحك رسول اللَّه ﷺ حتى بدت نواجذه، (ثم) (١٩) قال: "والذي نفسي بيده لئن صدق ليدخلن الجنة" (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : تجھ پر سلامتی ہو اے بنی عبدالمطلب کے لڑکے : پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر بھی ہو : پھر اس نے کہا : بیشک میں تمہارے ننھیال قبیلہ بنو سعد بن بکر قبیلہ کا آدمی ہوں۔ اور میں تمہاری طرف اپنی قوم کا پیغامبر اور قاصد بن کر آیا ہوں ۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کروں گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سوال کرنا سخت انداز میں ہوگا۔ اور آپ سے قسم کا مطالبہ کرنا ، پس میرے آپ سے قسم کے مطالبہ میں سختی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنو سعد کے بھائی : سوال کرو۔ اس دیہاتی نے کہا : آپ کو کس نے پیدا کیا ؟ اور وہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے لوگوں کا اور آپ کے بعد والے لوگوں کا پیدا کرنے والا ہوگا۔ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ نے ، دیہاتی نے پوچھا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے پوچھا : ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو کس نے پیدا کیا اور ان کے درمیان رزق کس نے پھیلایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے، اس نے پوچھا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں، اس نے عرض کیا : پس ہم آپ کی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور آپ کے قاصد نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے وقت پر ادا کریں۔ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا یہی معاملہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا : پس ہم آپ کی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور آپ کے قاصد نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے مالوں میں سے مقررہ حصہ نکال کر اپنے فقراء میں تقسیم کردیں۔ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا معاملہ اسی طرح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر اس نے عرض کیا : بہرحال پانچواں سوال میں اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھوں گا اور نہ ہی مجھے اس میں کوئی شک ہے ، راوی کہتے ہیں ، پھر اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اور میری قوم میں سے جو میری اطاعت کرے گا ضرور بالضرور ان اعمال کی پابندی کریں گے۔ پھر وہ واپس لوٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر اس نے سچ کہا تو یہ ضرور بالضرور جنت میں داخل ہوگا۔

حواشی
(١) في أح، ك، ط]: (فمشيد)، وفي [جـ، و]: (فمشيده)، وفي [هـ]: (فمشددا).
(٢) في [هـ]: (إليك).
(٣) في [ط]: (نناشدك).
(٤) زائدة من: [جـ، ك]، وفي [و]: زائدة (فمشيد).
(٥) في [هـ]: زيادة (عنك)، وفي [و]: زيادة (عليك).
(٦) زائدة من: [و].
(٧) في [و]: (فنشدتك).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (بذلك).
(٩) في [و]: (بينهما).
(١٠) في [و]: (فأنشدتك).
(١١) في [أ، ط، هـ]: (بذلك).
(١٢) في [هـ]: (لمواقبتها).
(١٣) في [و]: (فنشدتك).
(١٤) في [أ، ط، هـ]: (بذلك).
(١٥) سقط من: [ط]، وفي [هـ]: (بذلك).
(١٦) تكرار في: [جـ].
(١٧) في [ط]: (رب).
(١٨) زائدة (أما) من: [ب، جـ، ك، و].
(١٩) في [و]: (و).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32329
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء بن السائب اختلط، أخرجه ابن خزيمة (٢٣٨٣)، والدارمي (٦٥١)، والدارقطني ٣/ ٤٤، والبيهقي ٧/ ٤، والطبراني (٨١٥١)، وابن عبد البر في التمهيد ١٦/ ١٧١، وأصل الحديث عند البخاري (٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32329، ترقيم محمد عوامة 30953)