مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الإيمان
ما ذكر في الإيمان والإسلام باب: ان روایات کا بیان جو ایمان اور اسلام کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٣٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال سمعت عروة بن النزال يحدث ⦗٨⦘ عن معاذ بن جبل قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من غزوة تبوك، فلما رأيته خاليا قلت: يا رسول اللَّه، أخبرني بعمل يدخلني الجنة؟ (قال) (١): " (بخ) (٢) لقد سألت عن عظيم، وهو يسير على من يسره اللَّه (عليه، تقيم الصلاة المكتوبة وتؤتي الزكاة المفروضة، وتلقى اللَّه) (٣) لا تشرك به (شيئًا) (٤)، أولا أدلك على رأس الأمر وعموده [وذروته وسنامه، أما رأس الأمر فالإسلام، من أسلم سلم، وأما عموده فالصلاة، وأما] (٥) (ذروته) (٦) سنامه فالجهاد في سبيل اللَّه" (٧).حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے ۔ پس جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلے دیکھا تو میں نے پوچھا ! اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کسی ایسے عمل کی اطلاع دیجیے جس پر عمل کرنے کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واہ واہ ! تحقیق تو نے ایک بہت بڑے معاملہ کے متعلق سوال کیا۔ اور یہ آسان ہے اس شخص کے لیے جس کے لیے اللہ آسان فرما دیں : وہ یہ ہے کہ فرض نماز کی پابندی کرے، اور فرض زکوٰۃ ادا کرے، اور تو اللہ سے ملاقات کرے اس حالت میں کہ تو نے اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہو۔ اور کیا میں تیری راہنمائی نہ کروں معاملہ کی بنیاد پر اور اس کے ستون پر، اور اس کی چوٹی پر ؟ بہر حال معاملہ کی بنیاد اسلام ہے، جو شخص اسلام لے آیا وہ محفوظ ہوگیا۔ اور اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی اور کوہان اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ہے۔