مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الإيمان
ما ذكر في الإيمان والإسلام باب: ان روایات کا بیان جو ایمان اور اسلام کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٢٣٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) عن ابن عباس أن وفد عبد القيس أتوا النبي ﷺ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من الوفد، (أو من) (٢) القوم؟ " (قالوا) (٣): ربيعة قال: "مرحبا بالقوم أو بالوفد غير خزايا ولا ندام"، فقالوا: يا رسول اللَّه، إنا (نأتيك) (٤) من شقة بعيدة، وإن بيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر، وإنا لا نستطيع أن (نأتيك) (٥) إلا في الشهر الحرام، فمرنا بأمر فصل نخبر به من وراءنا ندخل به الجنة، قال: فأمرهم بأربع ونهاهم عن أربع: أمرهم بالإيمان باللَّه وحده، (٦) قال: "هل تدرون ما الإيمان باللَّه؟ " قالوا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "شهادة أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وأن تعطوا الخمس من المغنم"، فقال: احفظوه وأخبروا به من وراءكم (٧).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبد القیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کس قبیلہ کا وفد ہے ؟ یا فرمایا : کون لوگ ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے جواب دیا ! قبیلہ ربیعہ کے افراد ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید ان لوگوں کو یا فرمایا وفد والوں کو نہ دنیا میں تمہارے لیے رسوائی ہے اور نہ آخرت کی شرمندگی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت دور جگہ سے آئے ہیں، اور چونکہ ہمارے درمیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے، اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ان مہینوں میں آسکتے ہیں جن میں لڑنا حرام ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ایسے احکام ہمیں عطا فرما دیجئے ۔ جن پر ہم خود بھی عمل کریں اور ان لوگوں کو بھی اس کی اطلاع کریں جن کو ہم پیچھے وطن میں چھوڑ کر آئے ہیں۔ اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے روکا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گواہی دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا ، اور رمضان کے روزے رکھنا، ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار کے علاوہ پانچویں بات کا بھی حکم فرمایا) کہ مال غنیمت میں سے خمس دینا۔ پھر فرمایا : ان کو یاد کرو اور جن کو تم نے پیچھے چھوڑا ہے ان کو اس کی اطلاع کرو۔