حدیث نمبر: 32321
٣٢٣٢١ - (١) (حدثنا) (٢) إسماعيل بن (علية) (٣) عن أبي حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يومًا (بارزًا) (٤) للناس فأتاه رجل فقال: يا رسول اللَّه، ما الإيمان؟ (فقال) (٥): "الإيمان أن تؤمن باللَّه، وملائكته، وكتبه، ولقائه، ورسله، وتؤمن بالبعث الآخر"، قال: يا رسول اللَّه ما الإسلام؟ قال: "أن تعبد اللَّه ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، (وتؤدي) (٦) الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان"، قال: يا رسول اللَّه، ما الإحسان؟ قال: "أن تعبد اللَّه كأنك تراه، (فإنك) (٧) إن لا تراه فإنه يراك" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھلی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو ، اور اس کی کتابوں کو اور اس سے ملاقات کرنے کو اور اس کے رسولوں کو دل سے مانو۔ اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو دل سے مانو۔ اس آدمی نے عرض کیا : اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک مت ٹھہراؤ اور فرض نمازوں کو قائم کرو، اور فرض زکوۃ کی ادائیگی کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ پس اگر ایسا ممکن نہیں کہ تم اسے دیکھ سکو پھر اس کا گمان کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

حواشی
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن أبي شيبة).
(٢) في [ك]: (قال).
(٣) في [هـ]: (عطية).
(٤) في [أ، ب]: (بادزا).
(٥) في [أ، ب، جـ، ك]: (قال).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ، و]: (وتؤتي).
(٧) في [ط]: (فإن تك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32321
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٠)، ومسلم (٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32321، ترقيم محمد عوامة 30945)